الفتح الربانی
تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس— تفسیر، سوۃ الاعلیٰ سے سورۃ الناس
بَابُ تَفْسِيرِ هَا وَصِفَةِ الْكَوْثَرِ باب: سورۂ کوثر سورۂ کوثر اور کوثر کی صفت کا بیان
حدیث نمبر: 8844
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَا الْكَوْثَرُ قَالَتْ نَهَرٌ أُعْطِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بُطْنَانِ الْجَنَّةِ قَالَ قُلْتُ وَمَا بُطْنَانُ الْجَنَّةِ قَالَتْ وَسَطُهَا حَافَّتَاهُ دُرَّةٌ مُجَوَّفَةٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عبیدہ بن عبداللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: کوثر کیا چیز ہے؟ انھوں نے کہا: یہ ایک نہر ہے، جو جنت کے درمیانی حصے میں واقع ہے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی گئی ہے، اس کے کناروں پر خول دار موتی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … بیچ میں راوی نے بُطْنَان کا معنی دریافت کیا، سیدہ نے بتایا کہ اس کے درمیانی حصے کو کہتے ہیں۔