الفتح الربانی
تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس— تفسیر، سوۃ الاعلیٰ سے سورۃ الناس
بَابُ تَفْسِيرِ هَا وَصِفَةِ الْكَوْثَرِ باب: سورۂ کوثر سورۂ کوثر اور کوثر کی صفت کا بیان
عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا سَمِعْتَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَذْكُرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي الْكَوْثَرِ فَقُلْتُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذَا الْخَيْرُ الْكَثِيرُ فَقَالَ مُحَارِبٌ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا أَقَلَّ مَا يَسْقُطُ لِابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلٌ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ لَمَّا أُنْزِلَتْ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ [سورة الكوثر: ١] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ حَافَتَاهُ مِنْ ذَهَبٍ يَجْرِي عَلَى جَنَادِلِ الدُّرِّ وَالْيَاقُوتِ شَرَابُهُ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ وَأَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ قَالَ صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَذَا وَاللَّهِ الْخَيْرُ الْكَثِيرُ۔ عطاء بن سائب کہتے ہیں: محارب بن دثار نے مجھ سے کہا: تم نے سعید بن جبیر سے کوثر کے بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی کوئی بات سنی ہے؟ انھوں نے کہا:جی انھوں نے کہا ہے کہ کوثر سے مراد خیر کثیر ہے، محارب نے کہا: سبحان اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات معتبر ہی ہوتی ہے، میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا، انھوں نے کہا: جب {إِنَّا أَ عْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ}نازل ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جنت میں ایک نہر ہے، اس کے کنارے سونے کے ہیں،یہ موتیوں اور یا قوت کی نالیوں میں بہتی ہے، اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا اور دودھ سے زیادہ سفید اور برف سے زیادہ ٹھنڈا اور کستوری کی خوشبو سے زیادہ مہک والا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بالکل سچ کہا، اللہ کی قسم! یہ بہت زیادہ خیر اور بھلائی ہے۔
اَلْکَوْثَر کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں، ان مرفوع احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اس سے ایک نہر مراد ہے، جو جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کی جائے گی، بعض احادیث میں اس کا مصداق حوض بتلایا گیا ہے، اس حوض میں پانی اسی جنت والی نہر سے آ رہا ہو گا۔ حافظ ابن کثیر نے خیر کثیر کے مفہوم کو ترجیح دی ہے، کیونکہ اس میں دنیا و آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملنے والی تمام نعمتیں شامل ہیں۔