الفتح الربانی
تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس— تفسیر، سوۃ الاعلیٰ سے سورۃ الناس
بَابُ: «ثُمَّ لَتُسْتَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ» باب: {اَلْہَاکُمْ} یعنی سورۃالتکاثر {ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8841
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَلَمَّا نَزَلَتْ ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ [سورة التكاثر: ٨] قَالَ الزُّبَيْرُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ عَنْهُ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ قَالَ أَمَا إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: { ثُمَّ لَتُسْأَ لُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیمِ} … پھر تم اس دن نعمتوں کے متعلق ضرور ضرور سوال کئے جاؤ گے۔ توسیدنا زبیر نے کہا :اے اللہ کے رسول! کونسی نعمتیں ہیں، جن کے متعلق ہم سے سوال ہوگا،اب تو ہمارے پاس صرف یہ دو کالے رنگ کی نعمتیں پانی اور کھجور ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! عنقریب وہ نعمتیں ہوں گی۔
وضاحت:
فوائد: … جلد ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ پیشن گوئی پوری ہو گئی تھی اور امت ِ مسلمہ کی اکثرت دنیاوی مال و اسباب میں غافل ہو گئی۔