حدیث نمبر: 8824
(وَبِالسَّنَدِ الْمُتَقَدِّمِ) عَنْ يُونُسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ عَمَّارًا مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ [سورة البروج: ٣] قَالَ الشَّاهِدُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَالْمَشْهُودُ يَوْمُ عَرَفَةَ وَالْمَوْعُودُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: {وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوْ دِ۔ وَشَاھِدٍ وَّ مَشْہُوْدٍ۔} میں شاہد سے مراد جمعہ کا دن، مشہود سے مراد عرفہ کا دن اور موعود سے مراد قیامت کا دن ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوْ دِ۔ وَشَاھِدٍ وَّ مَشْہُوْدٍ۔} … وعدہ کیے ہوئے دن کی قسم؟ حاضر ہونے والے اور حاضر کیے گئے کی قسم! موعود سے مراد بالاتفاق قیامت کا دن ہے، جمعہ کے دن کو شاہد کہا گیا ہے، کیونکہ اس دن میں جس نے جو عمل بھی کیا،یہ قیامت کے دن اس پر گواہی دے گا، اس طرح مشہود سے عرفے کا دن مراد ہے، جہاں حج والے لوگ حج کے لیے جمع اور حاضر ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج / حدیث: 8824
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، وانظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7960»