حدیث نمبر: 8818
وَعَنْهُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} [المرسلات: 1] لَيْلَةَ الْحَيَّةِ قَالَ فَقُلْنَا لَهُ وَمَا لَيْلَةُ الْحَيَّةِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحِرَاءٍ لَيْلًا خَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ مِنَ الْجَبَلِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهَا فَطَلَبْنَاهَا فَأَعْجَزَتْنَا فَقَالَ ((دَعُوهَا عَنْكُمْ فَقَدْ وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّكُمْ كَمَا وَقَاكُمْ شَرَّهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورۂ مرسلات سانپ والی رات کو نازل ہوئی تھی، ہم نے کہا:اے ابوعبد الرحمن! سانپ والی رات سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: ہم ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غار حراء میں تھے،پہاڑ سے ایک سانپ نکل پڑا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس کو قتل کرنے کا حکم دیا، ہم اس کے پیچھے لگے، لیکن اس نے ہمیں عاجز کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: اب اسے چھوڑ دو، اللہ نے اس کو تمہارے شرسے بچا لیا اور تمہیں اس کے شر سے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج / حدیث: 8818
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4377»