حدیث نمبر: 8817
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} [المرسلات: 1] فَأَخَذْتُهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا فَلَا أَدْرِي بِأَيِّهَا خَتَمَ {فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ} [المرسلات: 50] أَوْ {وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ} [المرسلات: 48] سَبَقَتْنَا حَيَّةٌ فَدَخَلَتْ فِي جُحْرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((قَدْ وُقِيتُمْ شَرَّهَا وَوُقِيَتْ شَرَّكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غار حراء میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورۂ مرسلات نازل ہوئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے یہ سورت حاصل کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دہن مبارک اس کے ذریعے تر تھا،مجھے یہ معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت {فَبِأَ یِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ} کے ساتھ اس سورت کو ختم کیایا اس {وَاِذَا قِیلَ لَہُمْ ارْکَعُوْا لَا یَرْکَعُونَ} کے ساتھ۔ اتنے میں ایک سانپ ظاہر ہوا اور کسی بل میں داخل ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس کے شر سے محفوظ رکھا گیا اور اس کو تمہارے شر سے بچا لیا گیا۔

وضاحت:
فوائد: … سورۂ مرسلات {فَبِأَ یِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ}والی آیت پر ختم ہوتی ہے، جیسا کہ متواتر قراء ت میں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج / حدیث: 8817
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1830، 4934، ومسلم: 2234، 2235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3574 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3574»