الفتح الربانی
تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج— تفسیر، سوۃ ملک سے سورۃ البروج
سُوْرَةُ التَّكْوِيرِ باب: سورۂ مرسلات {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} کی تفسیر
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} [المرسلات: 1] فَأَخَذْتُهَا مِنْ فِيهِ وَإِنَّ فَاهُ لَرَطْبٌ بِهَا فَلَا أَدْرِي بِأَيِّهَا خَتَمَ {فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ} [المرسلات: 50] أَوْ {وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ} [المرسلات: 48] سَبَقَتْنَا حَيَّةٌ فَدَخَلَتْ فِي جُحْرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((قَدْ وُقِيتُمْ شَرَّهَا وَوُقِيَتْ شَرَّكُمْ))۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غار حراء میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورۂ مرسلات نازل ہوئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے یہ سورت حاصل کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دہن مبارک اس کے ذریعے تر تھا،مجھے یہ معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت {فَبِأَ یِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ} کے ساتھ اس سورت کو ختم کیایا اس {وَاِذَا قِیلَ لَہُمْ ارْکَعُوْا لَا یَرْکَعُونَ} کے ساتھ۔ اتنے میں ایک سانپ ظاہر ہوا اور کسی بل میں داخل ہو گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس کے شر سے محفوظ رکھا گیا اور اس کو تمہارے شر سے بچا لیا گیا۔