حدیث نمبر: 880
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الْغُسْلِ، قَالَ جَابِرٌ: أَتَتْ ثَقِيفٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا بِالْغُسْلِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَمَّا أَنَا فَأَصُبُّ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ)) وَلَمْ يَقُلْ غَيْرَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو زبیرکہتے ہیں: میں نے سیدنا جابرؓ سے غسل کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے جواباً کہا: بنوثقیف کے لوگ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: بیشک ہمارے علاقے میں سردی پڑتی ہے، تو پھر آپ ہمیں غسل کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے علاوہ کچھ نہ کہا۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں صرف سر پر پانی ڈالنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 880
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح و أخرجه مسلم: 328 بلفظ: ان النبي صلي الله عليه وآله وسلم سُئِل عن الغسل من الجنابة، فقال النبي صلي الله عليه وآله وسلم : ((اما انا، فافرغ علي رأسي ثلاثا۔)) ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14752 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14811»