الفتح الربانی
كتاب الإيمان و الإسلام— ایمان اور اسلام کی کتاب
بابٌ شُعَبُ الإِيمَانِ وَمِثْلُهُ باب: ایمان کے شعبوں اور اس کی مثال کا بیان
(وَعَنْهُ فِي أُخْرَى) قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ضَرَبَ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا عَلَى كَنَفَيِ الصِّرَاطِ سُورَانِ، فِيهِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ، وَعَلَى الْأَبْوَابِ سُتُورٌ، وَدَاعٍ يَدْعُو عَلَى رَأْسِ الصِّرَاطِ وَدَاعٍ يَدْعُو مِنْ فَوْقِهِ وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ، فَالْأَبْوَابُ الَّتِي عَلَى كَنَفَيِ الصِّرَاطِ حُدُودُ اللَّهِ لَا يَقَعُ أَحَدٌ فِي حُدُودِ اللَّهِ حَتَّى يَكْشِفَ سِتْرَ اللَّهِ، وَالَّذِي يَدْعُو مِنْ فَوْقِهِ وَاعِظُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ))(دوسری سند) سیدنا نواس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان کی ہے، ایک صراطِ مستقیم ہے، اس کی دونوں جانبوں میں دیواریں ہیں، ان میں کھلے ہوئے دروازے ہیں، جن پر پردے لٹک رہے ہیں اور ایک داعی راستے کے سرے پر ہے اور ایک داعی بندے کے اوپر اوپر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سلامتی والے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے، صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے، راستے کے دونوں جانبوں میں جو دروازے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں، جب تک آدمی اللہ تعالیٰ کے پردے کو چاک نہیں کرتا، اس وقت تک وہ اس کی حدوں میں نہیں گھستا اور جو داعی اوپر سے بلا رہا ہوتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا واعظ ہے۔“