الفتح الربانی
تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم— تفسیر، سوۃ محمد سے سورۃ تحریم
بَابُ: «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاء » باب: سورۂ منافقون سورۂ منافقون کے شانِ نزول اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی منقبت کابیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) يَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ النَّاسَ شِدَّةٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ لِأَصْحَابِهِ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ وَقَالَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَسَأَلَهُ فَاجْتَهَدَ يَمِينَهُ مَا فَعَلَ فَقَالُوا كَذَّبَ زَيْدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِمَّا قَالُوا حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقِي فِي إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ [سورة المنافقون: ١] قَالَ وَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيَسْتَغْفِرَ لَهُمْ فَلَوَّوْا رُءُوسَهُمْ وَقَوْلُهُ تَعَالَى كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ [سورة المنافقون: ٤] قَالَ كَانُوا رِجَالًا أَجْمَلَ شَيْءٍ۔ (دوسری سند) سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، لوگ سختی اور شدت میں مبتلا ہو گئے، عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا: رسول اللہ کے گرد جمع لوگوں پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ بکھر جائیں، اب اگر ہم مدینہ میں لوٹے تو ہم عزت والے اِن ذلیل لوگوں کو باہر نکال دیں گے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبد اللہ بن ابی کو بلایا اور اس سے پوچھا، اس نے تو بڑی پختہ قسم اٹھا دی کہ اس نے ایسی بات نہیں کہی، لوگ کہنے لگ گئے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید کو جھوٹا قرار دیا ہے، اس بات سے میرے دل میں بڑی پریشانی آئی،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میری تصدیق میں یہ آیات نازل کر دیں: {إِذَا جَاءَ کَ الْمُنَافِقُونَ … } … جب منافق آپ کے پاس آئیں گے، … پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بلایا، تاکہ ان کے لیے استغفار کریں، پس انھوں نے اپنے سروں کو موڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان: {کَأَ نَّہُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدَۃٌ} … گویا وہ ٹیک لگائی ہوئی لکڑیاں ہیں کا مفہوم یہ ہے کہ وہ بڑے خوبصورت مرد تھے۔