حدیث نمبر: 8793
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْتَحِنُ الْمُؤْمِنَاتِ إِلَّا بِالْآيَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ [سورة الممتحنة: ١٢] وَلَا وَلَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مؤمن خواتین کے ایمان کا اس آیت کے ذریعے امتحان لیتے تھے: {یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَّلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاَرْجُلِھِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ} (سورۂ ممتحنہ: ۱۲) یعنی: اے نبی! جب اہل ایمان خواتین آپ کے پاس آئیں تو وہ ان باتوں کی بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کریں گی اور کسی پر بہتان طرازی نہیں کریں گی اور کسی معروف کام میں آپ کی حکم عدولی نہیں کریں گی۔ اور یہ بھی نہیں کریں گی اور یہ بھی نہیں کریں گی۔

وضاحت:
فوائد: … یعنی جو خواتین مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آتی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آیت میں بیان شدہ امور کے ذریعے ان کے ایمان کو پرکھتے تھے اور ان سے بیعت لیتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم / حدیث: 8793
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7214، ومسلم: 1866 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25814»