حدیث نمبر: 8791
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَى قَوْلِهِ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ [سورة الممتحنة: ١٢] قَالَتْ كَانَ مِنْهُ النِّيَاحَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا آلَ فُلَانٍ وَإِنَّهُمْ قَدْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَا بُدَّ لِي مِنْ أَنْ أُسْعِدَهُمْ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا آلَ فُلَانٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: {یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَّلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاَرْجُلِھِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ} (سورۂ ممتحنہ: ۱۲) یعنی: اے نبی! جب اہل ایمان خواتین آپ کے پاس آئیں تو وہ ان باتوں کی بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کریں گی اور کسی پر بہتان طرازی نہیں کریں گی اور کسی معروف کام میں آپ کی حکم عدولی نہیں کریں گی۔ جن کاموں سے آپ نے روکا ان سے ایک نوحہ کرنا بھی تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں خاندان والوں نے دورِ جاہلیت میں نوحہ کرنے میں میرا ساتھ دیا تھا۔ اب میرے لیے ضروری ہے کہ میں بھی ان کا ساتھ دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) مگر فلاں خاندان والے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاص طور کر سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کو نوحہ کرنے کی اجازت دی، جبکہ شارع کو عام حکم سے تخصیص کرنے کا حق حاصل ہے، لہٰذا سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کی اس رخصت کے علاوہ نوحہ کرنا حرام ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم / حدیث: 8791
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4892، 7215، ومسلم: 937 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20796 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21077»