الفتح الربانی
أبواب الغسل من الجنابة وموجباته— غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب
بَابٌ فِي صِفَةِ الْغُسْلِ وَالْوُضُوءِ قَبْلَهُ باب: غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 878
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ قَالَ: سَأَلَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَ: تُبَلُّ الشَّعْرَ وَتَغْتَسِلُ الْبَشَرَةَ، قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ؟ قَالَ: كَانَ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا (وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جِلْدِهِ) قَالَ: إِنَّ رَأْسِي كَثِيرُ الشَّعْرِ، قَالَ: كَانَ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ أَكْثَرَ مِنْ رَأْسِكَ وَأَطْيَبَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبید اللہ بن مقسم کہتے ہیں: حسن بن محمد نے سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے غسلِ جنابت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: تم اپنے بالوں کو تر کرو اور چمڑے کو دھوؤ، اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسے غسل کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: سر پر تین دفعہ پانی ڈالتے تھے اور پھر اپنے چمڑے پر پانی بہاتے تھے۔ اس نے کہا: میرے سر کے بال تو بہت زیادہ ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے بال تیرے سر کے بالوں کی بہ نسبت زیادہ بھی تھے اور پاکیزہ بھی تھے۔