الفتح الربانی
تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم— تفسیر، سوۃ محمد سے سورۃ تحریم
بَابُ: «وَظِلْ مَمْدُوْدِ» باب: سورۂ واقعہ {ثُلَّۃٌ مِنَ الْاَوَّلِیْنَ وَقَلِیْلٌ مِّنَ الْآخِرِیْنَ} کی تفسیر
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِنَ الْآخِرِينَ [الواقعة: 13-14] شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَنَزَلَتْ ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ [الواقعة: 39-40] فَقَالَ أَنْتُمْ ثُلُثُ أَهْلِ الْجَنَّةِ بَلْ أَنْتُمْ نِصْفُ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَتُقَاسِمُونَهُمُ النِّصْفَ الْبَاقِي۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {ثُلَّۃٌ مِنْ الْأَ وَّلِینَ وَقَلِیلٌ مِنْ الْآخِرِینَ} … (سبقت لے جانے والوں) کا بہت بڑا گروہ تو اگلے لوگوں میں سے ہو گا اور تھوڑے سے پچھلے لوگوں میں سے۔ تو یہ بات مسلمانوں پر بہت گراں گزری، پس یہآیات نازل ہوئیں: {ثُلَّۃٌ مِنْ الْأَ وَّلِینَ وَثُلَّۃٌ مِنْ الْآخِرِینَ} … (دائیں ہاتھ والوں کا) جم غفیر اگلوں میں سے ہے اور بہت بڑی جماعت پچھلوں میں سے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جنت والوں میں سے تیسرا حصہ ہو گے، بلکہ اہل جنت کا نصف حصہ تم ہو گے اور باقی نصف میں بھی تم ان کے حصہ دار ہو گے۔