حدیث نمبر: 8773
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُخَاصِمُونَهُ فِي الْقَدَرِ فَنَزَلَتْ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ [القمر: 48-49]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قریشی مشرک، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تقدیر کے بارے میں جھگڑنے لگے، پس یہ آیات نازل ہوئیں: {یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْھِمِ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ۔ اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنَاہٗ بِقَدَرٍ} … جس دن یہ چہرں کے بل دوزخ میں گھسیٹے جائیں گے، ان سے کہا جائے گا دوزخ کا عذاب چکھو۔ بے شک ہم نے ہر چیز کوتقدیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … کتاب کے اوائل میں تقدیر کے مسئلہ کی وضاحت کی جا چکی ہے، حدیث نمبر (۱۸۰) سے تقدیر کے مسائل شروع ہو رہے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم / حدیث: 8773
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2656، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9736 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9734»