الفتح الربانی
تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم— تفسیر، سوۃ محمد سے سورۃ تحریم
بَابُ: «فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» باب: سورۂ قمر {اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8771
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آيَةً فَانْشَقَّ الْقَمَرُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ [القمر: 1-2]ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ والوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معجزہ طلب کیا تو مکہ میں چاند دو ٹکڑے ہوا، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ یَرَوْا آیَۃًیُعْرِضُوْا وَیَقُولُوْا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ} … قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا، مگر ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اہل مکہ کے مطالبے پر یہ معجزہ دکھایا گیا، علما کے درمیانیہ بات متفق علیہ ہے کہ انشقاق قمر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میںہوا اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واضح معجزات میں سے ہے، صحیح احادیث ِ متواترہ اس پر دلالت کرتی ہیں، لیکن قریش نے ایمان لانے کی بجائے اسے جادو قرار دے کر اپنے اعراض کی روش برقرار رکھی۔