الفتح الربانی
تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم— تفسیر، سوۃ محمد سے سورۃ تحریم
بَابُ: «فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» باب: سورۂ قمر {اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8770
عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ [القمر: 1] قَالَ قَدِ انْشَقَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ أَوْ فِلْقَتَيْنِ شُعْبَةُ الَّذِي يَشُكُّ فَكَانَ فِلْقَةٌ مِنْ وَرَاءِ الْجَبَلِ وَفِلْقَةٌ عَلَى الْجَبَلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اشْهَدْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ} … قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔ کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں چاند دو ٹکڑے ہوا تھا، ایک ٹکڑا (حرا) پہاڑ کے پیچھے نظر آ رہا تھا اور ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر، یہ معجزہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! گواہ رہنا۔