الفتح الربانی
أبواب الغسل من الجنابة وموجباته— غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب
بَابٌ فِي صِفَةِ الْغُسْلِ وَالْوُضُوءِ قَبْلَهُ باب: غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ أَفْرَغَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَغَسَلَهَا سَبْعًا قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي الْإِنَاءِ فَنَسِيَ مَرَّةً كَمْ أَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ فَسَأَلَنِي كَمْ أَفْرَغْتُ؟ فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي، فَقَالَ: لَا أُمَّ لَكَ وَلِمَ لَا تَدْرِي؟ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ وَجَسَدِهِ وَقَالَ: هَٰكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَطَهَّرُ يَعْنِي يَغْتَسِلُمولائے ابن عباس امام شعبہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓجب غسلِ جنابت کرتے تو دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اس کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے سات بار دھوتے، ایک دفعہ وہ یہ بھول گئے کہ انھوں نے اپنے ہاتھ پر کتنی دفعہ پانی ڈالا تھا، اس لیے انھوں نے مجھ سے سوال کیا: میں نے کتنی دفعہ پانی ڈالا ہے؟ میں نے کہا: میں تو نہیں جانتا، انھوں نے کہا: تیری ماں نہ ہو، تو کیوں نہیں جانتا؟ پھر انھوں نے نماز والا وضو کیا اور پھر سر اور جسم پر پانی بہا دیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح غسل کیا کرتے تھے۔