حدیث نمبر: 8768
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ قُلْتُ أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ [التكوير: 23] وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى [النجم: 13] قَالَتْ أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا فَقَالَ إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمْ يَرَهُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا إِلَّا مَرَّتَيْنِ رَآهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ مسروق کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، میں نے کہا :اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: {وَلَقَدْ رَآہُ بِالْأُفُقِ الْمُبِینِ} … تحقیق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو واضح افق پر دیکھا۔ نیز فرمایا: {وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً أُخْرٰی عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی۔} … جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اور ایک مرتبہ پھر اس نے سدرۃا المنتہیٰ کے پاس اس کو اترتے دیکھا۔ سیدہ نے جواباً کہا: اس امت میں سب سے پہلے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان دو آیات کے بارے میں سوال کیا تھا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: وہ تو جبریل علیہ السلام ہیں۔ جس صورت پر جبریل علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس صورت پر صرف دو بار دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آسمان سے زمین کی طرف اترتے ہوئے دیکھا، ان کے بڑے وجود نے آسمان اور زمین کے درمیانی خلا کو بھر رکھا تھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم / حدیث: 8768
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 177، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26040 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26568»