الفتح الربانی
تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم— تفسیر، سوۃ محمد سے سورۃ تحریم
بَاب قَوْلِهِ: «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» باب: سورۂ نجم {وَھُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰی … اِلٰی قَوْلِہٖ … لَقَدْرَاٰی مِنْ آیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8766
عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ قَالَ سَمِعْتُ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَلَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ قَالَ سَأَلْتُ عَاصِمًا عَنِ الْأَجْنِحَةِ فَأَبَى أَنْ يُخْبِرَنِي قَالَ فَأَخْبَرَنِي بَعْضُ أَصْحَابِهِ أَنَّ الْجَنَاحَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جبریل علیہ السلام کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عاصم سے پروں کے بارے میں پوچھا، لیکن انھوں نے بتانے سے انکار کر دیا، پھر ان کے بعض شاگردوں نے مجھے بتایا کہ ایک پر مشرق سے مغرب تک تھا۔