الفتح الربانی
تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم— تفسیر، سوۃ محمد سے سورۃ تحریم
بَابُ: « يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أصْوَاتَكُمْ» باب: {وَھُوَ الَّذِیْنَ کَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ … } کی تفسیر
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحُدَيْبِيَةِ هَبَطَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ ثَمَانُونَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فِي السِّلَاحِ مِنْ قِبَلِ جَبَلِ التَّنْعِيمِ فَدَعَا عَلَيْهِمْ فَأُخِذُوا وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ} [الفتح: 24] قَالَ يَعْنِي جَبَلَ التَّنْعِيمِ مِنْ مَكَّةَ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صلح حدیبیہ والے دن مکہ والوں میں سے اسی (۸۰) ہتھیاروں سے لیس آدمی تنعیم پہاڑ کی جانب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام پر چڑھ آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر بددعا کی، پس ان کو گرفتا کر لیا گیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: { وَہُوَ الَّذِی کَفَّ أَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَأَ یْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَ ظْفَرَکُمْ عَلَیْہِمْ} … وہی ہے جس نے خاص مکہ میں کافروں کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک لیا، اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ دے دیا تھا۔