الفتح الربانی
تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم— تفسیر، سوۃ محمد سے سورۃ تحریم
بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا وَوَقْتِ نُزُولِهَا باب: سورۂ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم {فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ}کی تفسیر
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ الْخَلْقَ قَامَتِ الرَّحِمُ فَأَخَذَتْ بِحَقْوِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ مِنَ الْقَطِيعَةِ قَالَ أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ)) اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا} [محمد: 22-24]۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی تو صلہ رحمی، رحمن کی کمر سے چمٹ گئی اور اس نے اللہ تعالیٰ سے کہا: یہ قطع رحمی سے پناہ لینے والے کا مقام ہے،اللہ تعالیٰ نے کہا: کیا تو یہ پسند کرتی ہے کہ جو تجھے ملائے گا، میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے کاٹے گا، میں بھی اس کو کاٹ دوں گا۔ اگر چاہتے ہو تو یہ آیات پڑھ لو: {فَہَلْ عَسَیْتُمْ إِنْ تَوَلَّیْتُمْ أَ نْ تُفْسِدُوْا فِی الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوْا أَ رْحَامَکُمْ، أُولَئِکَ الَّذِینَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فَأَ صَمَّہُمْ وَأَ عْمٰی أَ بْصَارَہُمْ، أَ فَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَ مْ عَلٰی قُلُوبٍ أَ قْفَالُہَا} … پھر یقینا تم قریب ہو اگر تم حاکم بن جاؤ کہ زمین میں فساد کرو اور اپنے رشتوں کو بالکل ہی قطع کر دو۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی۔ پس انھیں بہرا کر دیا اور ان کی آنکھیں اندھی کر دیں۔ تو کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے، یا کچھ دلوں پر ان کے تالے پڑے ہوئے ہیں ؟