الفتح الربانی
تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف— تفسیر، قصص سے احقاف
بَابُ: «وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ» باب: سورۂ شوریٰ {قُلْ لَا اَسْاَلُکُمْ عَلَیْہٖ اَجْرًا اِلَّا الْمُوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی}کی تفسیر
عَنْ طَاوُسٍ قَالَ أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَجُلٌ فَسَأَلَهُ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا الْمَعْنَى عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} [الشورى: 23] فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قَرَابَةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَجِلْتَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ قَرَابَةٌ فَنَزَلَتْ {قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى} إِلَّا أَنْ تَصِلُوا قَرَابَةَ مَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ۔ طاؤس کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے معنی کے بارے میں سوال کیا: {قُلْ لَا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ أَ جْرًا إِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی} … کہہ دیجئے میں تم سے کسی اجر کا سوال نہیں کرتا، مگر قرابت داری کی دوستی کا سوال کرتا ہوں۔ سعید بن حبیر نے کہا: یہاں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرابت داری مراد ہے،لیکن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اے سعید! تم نے جلد بازی سے کام لیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قریش کے ہرچھوٹے اور بڑے قبیلے کے ساتھ قرابتداری تھی، ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ {قُلْ لَا أَ سْأَ لُکُمْ عَلَیْہِ أَ جْرًا إِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی} … میں تم سے تبلیغ پر اجرت نہیں مانگتا، بلکہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابتداری ہے میں تو اس کو ملانے کا مطالبہ کرتا ہوں۔