الفتح الربانی
تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف— تفسیر، قصص سے احقاف
بَابُ: «قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمُوَدَّةَ فِي الْقُرُبٰي» باب: سورۂ فصلت {وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَشْہَدَ عَلَیْکُمْ سَمْعُکُمْ وَلَا اَبْصَارُکُمْ … }کی تفسیر
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مُسْتَتِرًا بِسِتَارِ الْكَعْبَةِ فَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ قُرَشِيٌّ وَخَتَنَاهُ ثَقَفِيَّانِ أَوْ ثَقَفِيٌّ وَخَتَنَاهُ قُرَشِيَّانِ كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ قَلِيلٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ فَتَكَلَّمُوا بِكَلَامٍ لَمْ أَسْمَعْهُ فَقَالَ أَحَدُهُمْ أَتَرَوْنَ اللَّهَ يَسْمَعُ كَلَامَنَا هَذَا فَقَالَ الْآخَرُ أُرَانَا إِذَا رَفَعْنَا أَصْوَاتَنَا سَمِعَهُ وَإِذَا لَمْ نَرْفَعْهَا لَمْ يَسْمَعْ فَقَالَ الْآخَرُ إِنْ سَمِعَ مِنْهُ شَيْئًا سَمِعَهُ كُلَّهُ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ} إِلَى قَوْلِهِ {ذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ} [فصلت: 22-23]۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں کعبہ کے پردے کی اوٹ میں چھپا ہواتھا کہ تین آدمی آئے، ایک قریشی تھا اور دو اس کے سالے تھے، جو بنو ثقیف سے تھے، یاایک ثقفی تھا اور دو اس کے قریشی سالے تھے، ان کے پیٹوں پر چربی تو بہت زیادہ چڑھی ہوئی تھی لیکن دلوں میں سمجھ کی کمی تھی، انہوں نے مختلف باتیں کیں، میں وہ ساری تو نہ سن سکا، بہرحال ان میں سے ایک نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری یہ بات سن رہا ہے؟ دوسرے نے کہا: میرا خیال ہے کہ جب ہم آواز بلند کریں گے تو وہ ہماری آواز سنے گا اور جب ہم آوازیں بلند نہیں کریں گے تو وہ نہیں سنے گا، تیسرا بولا اور اس نے کہا: اگر وہ ہماری بات کا کچھ حصہ سنتا ہے تو پھر اس کامطلب یہ ہوا کہ وہ ساری باتیں سنتا ہے۔ جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان باتوں کا ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: {وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ یَشْہَدَ عَلَیْکُمْ … … فَأَصْبَحْتُمْ مِنْ الْخَاسِرِینَ}
مشرک واقعی کھوٹی عقل والا ہوتا ہے، بھلا جو اللہ تعالی کا وفادار نہ رہے، اس کو کون آسرا دے گا۔