الفتح الربانی
تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف— تفسیر، قصص سے احقاف
بَابُ: «وَمَا كُنتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ » باب: {وَمَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ} کی تفسیر
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ {وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ} [الزمر: 67] وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَكَذَا بِيَدِهِ وَيُحَرِّكُهَا يُقْبِلُ بِهَا وَيُدْبِرُ ((يُمَجِّدُ الرَّبُّ نَفْسَهُ أَنَا الْجَبَّارُ أَنَا الْمُتَكَبِّرُ أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْعَزِيزُ أَنَا الْكَرِيمُ)) فَرَجَفَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرُ حَتَّى قُلْنَا لَيَخِرَّنَّ بِهِ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن منبر پر یہ اس آیت کی تلاوت کی: {وَمَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہِ وَالْأَ رْضُ جَمِیعًا قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمٰوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِہِ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُونَ} … اور انھوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جو اس کی قدر کا حق ہے، حالانکہ زمین ساری قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہو ئے ہوں گے۔ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بنا رہے ہیں۔ ساتھ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو آگے پیچھے حرکت دینا شروع کی اور فرمایا: رب اپنی ذات کی بزرگی بیان کر رہا ہے کہ میں جبار ہوں، میں بڑائی والا ہوں، میں بادشاہ ہوں، میں غالب ہوں،میں کریم ہوں۔ جب آپ یہ کہہ رہے تھے تو منبر اس قدر لرز رہا تھا کہ ہمیں خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں آپ منبر سے نیچے نہ گر جائیں۔
حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میںکہا: مشرکین نے دراصل اللہ تعالیٰ کی قدر و عظمت جانی ہی نہیں، اسی وجہ سے وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگے۔ اللہ تعالی سے بڑھ کر عزت والا، اس سے زیادہ بادشاہت والا، اس سے بڑھ کر غلبے اور قدرت والا کوئی نہیں، نہ کوئی اس کا ہمسر ہے اور نہ مدمقابل، یہ آیت قریشی کفار کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اگر انہیں قدر ہوتی تو اس کی باتوں کو غلط نہ جانتے، جو شخص اللہ کو ہر چیز پر قادر مانتا ہے، وہی اللہ کی عظمت کا اعتراف کرتاہے۔ اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں منقول ہیں، اس جیسی آیات اور احادیث کے بارے میں سلف صالحین کا مسلک یہ رہا ہے کہ جس طرح اور جن لفظوں میں یہ آئی ہے اسی طرح انہی لفظوں کے ساتھ انہیں مان لینا چاہیے اور ان پر ایمان رکھنا چاہیے، نہ ان کی کیفیت کو ٹٹولا جائے اور نہ ان میں تحریف و تبدیلی کی جائے۔