الفتح الربانی
تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف— تفسیر، قصص سے احقاف
بَابُ: «وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ» باب: {قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ} کی تفسیر
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا بِهَذِهِ الْآيَةِ {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ} [الزمر: 53] فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَنْ أَشْرَكَ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ((إِلَّا مَنْ أَشْرَكَ)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں یہ پسند نہیں کرتا کہ مجھے اس آیت کے بدلے میں دنیا و ما فیہا دے دیا جائے: {یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ أَ سْرَفُوْا عَلٰی أَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَحْمَۃِ اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ} … اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، یقینا وہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور جس نے شرک کیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے اور پھر فرمایا: مگر جس نے شرک کیا (اس کی بخشش نہیں ہو گی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار یہ جملہ دوہرایا۔