الفتح الربانی
تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف— تفسیر، قصص سے احقاف
بَابُ: «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ» باب: سورۂ زمر {اِنَّکَ مَیِّتٌ وَاِنَّہُمْ مَیِّتُوْنَ} کی تفسیر
عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ} [الزمر: 30-31] قَالَ الزُّبَيْرُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَيُكَرَّرُ عَلَيْنَا مَا كَانَ بَيْنَنَا فِي الدُّنْيَا مَعَ خَوَاصِّ الذُّنُوبِ قَالَ ((نَعَمْ لَيُكَرَّرَنَّ عَلَيْكُمْ حَتَّى يُؤَدَّى إِلَى كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقُّهُ)) فَقَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ إِنَّ الْأَمْرَ لَشَدِيدٌ۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب سورۂ زمر کی یہ اٰیات نازل ہوئیں: {إِنَّکَ مَیِّتٌ وَإِنَّہُمْ مَیِّتُونَ ثُمَّ إِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُونَ} … (اے نبی) یقینا تم بھی وفات پانے والے ہو اور وہ لوگ بھی مرنے والے ہیں، پھر تم روزقیامت اپنے رب کے پاس جھگڑا کرو گے۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! گناہوں کے ساتھ ساتھ دنیا میں ہمارے ما بین جو کچھ ہوتا ہے، کیا پھر اس کاتکرار ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، تم پر ضرور تکرار ہوگا، یہاں تک کہ ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا جائے گا۔ یہ سن کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم!پھر تو معاملہ بڑا سخت ہے۔