حدیث نمبر: 8732
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ حِينَ وَجَبَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ ((يَا أَبَا ذَرٍّ تَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ الشَّمْسُ)) قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ((فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ بَيْنَ يَدَيْ رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ فَتَسْتَأْذِنَ فِي الرُّجُوعِ فَيُؤْذَنَ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَرْجِعُ إِلَى مَطْلَعِهَا فَذَلِكَ مُسْتَقَرُّهَا)) ثُمَّ قَرَأَ {وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا} [يس: 38]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں غروب ِ آفتاب کے وقت مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! کیا تجھے معلوم ہے یہ کہاں جاتا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چلتا رہے گا،یہاں تک کہ اپنے ربّ کے سامنے سجدہ کر کے واپس آنے کی اجازت طلب کرے گا، پس اس کو اجازت دی جائے گی اور کہاجائے گا: تو جہاں سے آیا ہے، وہیں چلا جا، پس یہ اپنے مطلع کی طرف لوٹ جائے گا، وہی اس کے قرار پکڑنے کی جگہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {وَالشَّمْسُ تَجْرِی لِمُسْتَقَرٍّ لَہَا} … اور سورج اپنے ٹھہرنے کی جگہ کی طرف چلتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف / حدیث: 8732
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3199، 4802، ومسلم: 159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21679»