حدیث نمبر: 8729
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ {ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ} [فاطر: 32] قَالَ ((هَؤُلَاءِ كُلُّهُمْ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ وَكُلُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کے بارے میں فرمایا:{ثُمَّ أَ وْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِینَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِہِ وَمِنْہُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْہُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْرَاتِ بِإِذْنِ اللّٰہِ} … پھر ہم نے اس کتاب کے وارث اپنے وہ بندے بنائے جنھیں ہم نے چن لیا، پھر ان میں سے کوئی اپنے آپ پر ظلم کرنے والا ہے اور ان میں سے کوئی متوسط درجے کا ہے اور ان میں سے کوئی اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ (اس آیت میں مذکورہ) سب لوگوں کا مرتبہ ایک ہی ہے اور سارے جنت میں جائیں گے۔

وضاحت:
فوائد: … اس آیت میں امت محمدیہ کی تین قسمیں بیان کی گئی ہیں: (۱) وہ لوگ جو بعض فرائض میں کوتاہی اور بعض محرمات کا ارتکاب کرلیتے ہیں۔
(۲) اس قسم سے مراد وہ لوگ ہیں جو فرائض کے پابند اور محرمات کے تارک تو ہیں، لیکن کبھی مستحبّات کو ترک کر دیتے ہیں اور کبھی بعض محرمات کا ارتکاب بھی ان سے ہو جاتاہے، بس نیک تو ہیں، لیکن پیش پیش نہیں ہیں۔
(۳) وہ لوگ جو دین کے معاملے میں پہلی دونوں اقسام کے افراد سے سبقت کرنے والے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف / حدیث: 8729
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الرجل من ثقيف، والرجل من كنانة ۔ أخرجه الترمذي: 3225، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11745 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11767»