الفتح الربانی
تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف— تفسیر، قصص سے احقاف
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا باب: سورۂ فاطر {ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا … }کی تفسیر
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ {ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ} [فاطر: 32] قَالَ ((هَؤُلَاءِ كُلُّهُمْ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ وَكُلُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ))۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کے بارے میں فرمایا:{ثُمَّ أَ وْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِینَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِہِ وَمِنْہُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْہُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْرَاتِ بِإِذْنِ اللّٰہِ} … پھر ہم نے اس کتاب کے وارث اپنے وہ بندے بنائے جنھیں ہم نے چن لیا، پھر ان میں سے کوئی اپنے آپ پر ظلم کرنے والا ہے اور ان میں سے کوئی متوسط درجے کا ہے اور ان میں سے کوئی اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ (اس آیت میں مذکورہ) سب لوگوں کا مرتبہ ایک ہی ہے اور سارے جنت میں جائیں گے۔
(۲) اس قسم سے مراد وہ لوگ ہیں جو فرائض کے پابند اور محرمات کے تارک تو ہیں، لیکن کبھی مستحبّات کو ترک کر دیتے ہیں اور کبھی بعض محرمات کا ارتکاب بھی ان سے ہو جاتاہے، بس نیک تو ہیں، لیکن پیش پیش نہیں ہیں۔
(۳) وہ لوگ جو دین کے معاملے میں پہلی دونوں اقسام کے افراد سے سبقت کرنے والے ہیں۔