الفتح الربانی
تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف— تفسیر، قصص سے احقاف
بَابُ:« إِنَّ الله وَمَلائِكَةَ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ .....» باب: {یَاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ … }کی تفسیر
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُنَّ يَخْرُجْنَ بِاللَّيْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَى الْمَنَاصِعِ وَهُوَ صَعِيدٌ أَفْيَحُ وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْجُبْ نِسَاءَكَ فَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ اللَّيَالِي عِشَاءً وَكَانَتْ امْرَأَةً طَوِيلَةً فَنَادَاهَا عُمَرُ أَلَا قَدْ عَرَفْنَاكِ يَا سَوْدَةُ حِرْصًا عَلَى أَنْ يُنْزَلَ الْحِجَابُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأُنْزِلَ الْحِجَابُ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں قضائے حاجت کے لئے باہر مناصع کی جانب نکلتی تھیں،یہ ایک وسیع میدان تھا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہتے رہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں کو پردے کا حکم دیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا نہیں کیا، ایک رات سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا عشاء کے وقت باہر نکلیں، وہ ایک لمبے قد والی خاتون تھیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: خبردار! اے سودہ! ہم نے تمہیں پہچان لیا ہے۔ ان کا مقصد یہی تھا کہ پردے کا حکم نازل ہو، پس پردہ کا حکم نازل ہو گیا۔