الفتح الربانی
تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف— تفسیر، قصص سے احقاف
بَابُ:« إِنَّ الله وَمَلائِكَةَ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ .....» باب: {یَاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ … }کی تفسیر
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ بَنَى بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَشْبَعَ الْمُسْلِمِينَ خُبْزًا وَلَحْمًا قَالَ ثُمَّ رَجَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ فَأَتَى حُجَرَ نِسَائِهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ فَدَعَوْنَ لَهُ قَالَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ وَأَنَا مَعَهُ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْبَيْتِ فَإِذَا رَجُلَانِ قَدْ جَرَى بَيْنَهُمَا الْحَدِيثُ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَلَمَّا بَصَرَ بِهِمَا وَلَّى رَاجِعًا فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَلَّى عَنْ بَيْتِهِ قَامَا مُسْرِعَيْنِ فَلَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَوْ أُخْبِرَ بِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ وَأَرْخَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِسیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جس صبح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ رخصتی کے بعد ولیمہ کیا تھا، میں نے لوگوں کواس میں شمولیت کی دعوت دی تھی، آپ نے لوگوں کو روٹی اور گوشت سے سیر کیا، پھر آپ لوٹے جس طرح اپنی بیویوں کے حجروں میں لوٹتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر سلام کیا اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے دعا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر کی طرف لوٹے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تک پہنچے تو ابھی تک ایک کونے میں دو آدمی آپس میں باتیں کر رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس چلے گئے، جب ان دو آدمیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر سے بہت تیزی کے ساتھ باہر نکل گئے، اب میں نہیں جانتا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے چلے جانے کی خبر دی یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی گئی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر کی طرف لوٹے اور میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا لیا اور پردہ والی آیت نازل ہوئی۔
(سورۂ احزاب: ۵۳)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھروں میں بلا اجازت نہ چلے آیا کرو،نہ کھانے کا وقت تاکتے رہو۔ ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ،مگر جب کھانا کھالو تو منتشر ہو جاؤ۔ باتیں کرنے میں نہ لگے رہو، تمہارییہ حرکتیں نبی کو تکلیف دیتی ہیں، مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے۔ اور اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتا۔ نبی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو کرو، یہ تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے، تمہارے لیےیہ ہرگز جائز نہیں کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف دو، اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو، یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔
پردے کا یہ حکم عمر رضی اللہ عنہ کی خواہش پر نازل ہوا،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا،یا رسول اللہ! آپ کے پاس اچھے برے ہر طرح کے لوگ آتے ہیں، کاش آپ امہات المؤمنین کو پردے کا حکم دے دیں تو کیا اچھا ہو، جس پر اللہ تعالی نے یہ حکم نازل کیا۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)