حدیث نمبر: 8716
عَنْ مُعَاذَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَأْذِنُ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَ أَنْ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ [سورة الأحزاب: ٥١] قَالَتْ فَقُلْتُ لَهَا مَا كُنْتِ تَقُولِينَ لَهُ قَالَتْ كُنْتُ أَقُولُ لَهُ إِنْ كَانَ ذَلِكَ إِلَيَّ فَإِنِّي لَا أُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ أُوثِرَ عَلَيْكَ أَحَدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بھی جب کسی بیوی کی باری ہوتی تو اس سے اجازت طلب کرتے تھے: {تُرْجِیْ مَنْ تَشَاء ُ مِنْہُنَّ وَ تُؤْوِیْٓ اِلَیْکَ مَنْ تَشَائُ وَمَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکَ} … ان میں سے جسے تو چاہے مؤخر کر دے اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے دے اور تو جسے بھی طلب کر لے، ان عورتوں میں سے جنھیں تو نے الگ کر دیا ہو تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں۔ میں(معاذہ) نے کہا: عائشہ! جب آپ ﷺ تم سے پوچھتے تو تم کیا کہتی تھیں؟ انھوں نے کہا: میں یہ کہتی تھی: اے اللہ کے رسول! اگر یہ میرا اختیار ہے تو میں آپ پر کسی کو ترجیح نہیں دوں گی۔

وضاحت:
فوائد: … اس آیت میں آپ کی ایک اور خصوصیت کا بیان ہے، وہ یہ کہ بیویوں کے درمیان باریاں مقرر کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اختیار دے دیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس کی باری چاہیںموقوف کر دیں،یعنی اس کو نکاح میں رکھتے ہوئے اس سے مباشرت نہ کریں اور جس سے چاہیںیہ تعلق قائم رکھیں۔ لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حق استعمال نہیںکیا، ما سوائے سودہ رضی اللہ عنہا کے، کہ انھوں نے اپنی باری خود ہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ہبہ کر دی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام ازواج کی باریاں مقرر کر رکھی تھیں، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرض الموت میں ازواج مطہرات سے اجازت لے کر بیماری کے ایام عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گزارے، {ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُہُنَّ} کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسی طرز عمل سے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تقسیم اگرچہ دوسرے لوگوں کی طرح واجب نہیں تھی، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تقسیم کو اختیار فرمایا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حسن سلوک اور عدل و انصاف سے خوش ہو جائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خصوصی اختیار استعمال کرنے کے بجائے ان کی دلجوئی اور دل داری کا اہتمام فرمایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف / حدیث: 8716
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4789، ومسلم: 1476، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24981»