الفتح الربانی
تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف— تفسیر، قصص سے احقاف
بَابُ: «يَايُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتيْتَ أُجُورَ هُنَّ .... » باب: {وَاتَّقِ اللّٰہَ وَتُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ … } کی تفسیر
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةَ زَيْنَبَ وَكَأَنَّهُ دَخَلَهُ لَا أَدْرِي مِنْ قَوْلِ حَمَّادٍ أَوْ فِي الْحَدِيثِ فَجَاءَ زَيْدٌ يَشْكُوهَا إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ قَالَ فَنَزَلَتْ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ إِلَى قَوْلِهِ زَوَّجْنَاكَهَا [سورة الأحزاب: ٣٧] يَعْنِي زَيْنَبَ۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے گھر داخل ہوئے ان کی بیوی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو دل میں کچھ خیال آیا،یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہ حماد کا قول ہے یا حدیث کا حصہ ہے، اُدھر سیدنا زید رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور اپنی بیوی کی شکایت کی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ پس یہ حکم نازل ہوا: {وَاتَّقِ اللّٰہَ وَتُخْفِی فِی نَفْسِکَ مَا اللّٰہُ مُبْدِیہِ … … زَوَّجْنَاکَہَا} … تک، اس سے مراد زینب رضی اللہ عنہا ہیں۔
جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی عدت پوری ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید سے فرمایا: ’ زینب سے میرا ذکر کرو۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ گئے، ان کے پاس پہنچے، جبکہ وہ آٹے کا خمیر کر رہی تھیں، سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں نے انہیں دیکھا، تو میرے دل میں ان کی عظمت آئییہاں تک کہ مجھ میں ان کی طرف دیکھنے کی طاقت نہ ہوئی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ذکر کیا تھا، چنانچہ میں نے ان سے پیٹھ پھیری اور اپنی ایڑیوں پر لوٹا، یعنی ان کی طرف اپنی پشت کر کے کھڑا ہوا اور پھر کہا: اے زینب! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی طرف پیغام بھیجا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھے یاد کرتے ہیں۔ سیدہ نے کہا میں اس وقت تک کچھ بھی نہیں کر سکتی، جب تک کہ اپنے ربّ سے استخارہ نہ کرلوں،پھر وہ اپنی نماز کی جگہ کھڑی ہوگئیں اور قرآن نازل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس بغیر اجازت آ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا جو کہا اور ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا اور جب دن چڑھ گیا تو لوگ کھا کر چلے گئے اور باقی لوگوں نے گھر میں ہی کھانے کے بعد گفتگو کرنا شروع کر دی۔