الفتح الربانی
تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف— تفسیر، قصص سے احقاف
بَابُ: «وَاتَّقِ اللهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ.....» باب: {اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤُمِنَاتِ … } کی تفسیر
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شَيْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا لَا نُذْكَرُ فِي الْقُرْآنِ كَمَا يُذْكَرُ الرِّجَالُ قَالَتْ فَلَمْ يَرُعْنِي مِنْهُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا وَنِدَاؤُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَتْ وَأَنَا أُسَرِّحُ شَعْرِي فَلَفَفْتُ شَعْرِي ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى حُجْرَةٍ مِنْ حُجَرِ بَيْتِي فَجَعَلْتُ سَمْعِي عِنْدَ الْجَرِيدِ فَإِذَا هُوَ يَقُولُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا [سورة الأحزاب: ٣٥]سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ کہتی ہیں : میں نے نبی کریم ﷺ سے کہا : کیا وجہ ہے کہ قرآن مجید میں ہمارا ذکر مردوں کی مانند نہیں ہوتا ؟ پھر اچانک اسی دن میں نے آپ ﷺ کو سنا اور آپ ﷺ کی آواز منبر پر بلند ہو رہی تھی ، میں بالوں میں کنگھی کر رہی تھی ، میں نے وہیں بال لپیٹے اور اپنے گھر کے ایک کمرے میں چلی گئی اور ایک ٹہنی کے قریب سے آپ کی آوز آ رہی تھی ، ادھر میں نے کان لگا دیئے ، آپ منبر کے قریب فرما رہے تھے : اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے : {إِنَّ الْمُسْلِمِینَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ۔۔۔۔َاعَدَّ اللّٰہُ لَہُمْ مَغْفِرَۃً وَأَ جْرًا عَظِیمًا}