الفتح الربانی
تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف— تفسیر، قصص سے احقاف
بَابُ: «أدْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ» باب: سورۂ احزاب {مَاجَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِہٖ}کی تفسیر
عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ قَالَ قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ [سورة الأحزاب: ٤] مَا عَنَى بِذَلِكَ قَالَ قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يُصَلِّي قَالَ فَخَطَرَ خَطْرَةً فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ الَّذِينَ يُصَلُّونَ مَعَهُ أَلَا تَرَوْنَ لَهُ قَلْبَيْنِ قَالَ قَلْبٌ مَعَكُمْ وَقَلْبٌ مَعَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ۔ ابو ظبیان کہتے ہیں: ہم نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ بتائیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا کیا مطلب ہے: {مَا جَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَیْنِ فِی جَوْفِہِ} … اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کے پیٹ میں دو دل نہیں بنائے۔ اس سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وسوسہ ہوا، جو منافق آپ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، انھوں نے کہا: آپ کے دو دل ہیں، ایک تمہارے یعنی منافقوں کے ساتھ اور ایک اپنے صحابہ کے ساتھ، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ {مَا جَعَلَ اللّٰہُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَیْنِ فِی جَوْفِہِ}۔
(۲) مشرکین میں سے ایک شخص جمیل بن معمر فہر تھا، وہ بڑا ہوشیار،، مکار اور نہایت تیز طرار تھا، اس کا دعوییہ تھا کہ
اس کے دو دل ہیں، جن سے وہ سوچتا ہے، جب کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک دل ہے، اس آیت کے ذریعے اس کے اس نظریہ کا ردّ کیا گیا۔
(۳) آیت کے اس ٹکڑے سے آگے جو دو مسئلے بیان ہو رہے ہیں،یہ دراصل ان کی تمہید ہے، وہ دو مسئلے یہ ہیں: ظہار اور لے پالک بیٹوں کی حقیقت،یعنی جس طرح ظہار کے ذریعے دو مائیں نہیں بن سکتیں، اس طرح حقیقی اور لے پالک بیٹا، دو ایک حکم میں نہیں آسکتے، بالکل ایسے ہی جیسے ایک سینے میں دو دل نہیں ہو سکتے۔