حدیث نمبر: 8701
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي حَدِيثِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ فَحَدِّثْنِي مَتَى السَّاعَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُبْحَانَ اللَّهِ فِي خَمْسٍ مِنَ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا هُوَ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ [سورة لقمان: ٣٤]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کی جبریل علیہ السلام والی حدیث میں آتا ہے کہ جبریل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: مجھے بتاؤ کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! (بڑا تعجب ہے)، غیب کی پانچ چیزیں صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَ رْحَامِ وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ بِأَ یِّ أَ رْضٍ تَمُوتُ، إِنَّ اللّٰہَ عَلِیمٌ خَبِیرٌ} … قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پا رہا ہے، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے والا ہے اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ کس سرزمین میں اس کی موت آنی ہے، اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف / حدیث: 8701
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن ۔ أخرجه البزار: 24 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2926»