الفتح الربانی
تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف— تفسیر، قصص سے احقاف
بَابُ: «إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ» باب: سورۂ لقمان {وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہٖ حَمَلَتْہٗاُمُّہُوَھْنًاعَلٰی وَھْنٍ} کی تفسیر
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَتْ أُمِّي أَلَيْسَ اللَّهُ يَأْمُرُكَ بِصِلَةِ الرَّحِمِ وَبِرِّ الْوَالِدَيْنِ وَاللَّهِ لَا آكُلُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ فَكَانَتْ لَا تَأْكُلُ حَتَّى يَشْجُرُوا فَمَهَا بِعَصًا فَيَصُبُّوا فِيهِ الشَّرَابَ قَالَ شُعْبَةُ وَأُرَاهُ قَالَ وَالطَّعَامَ فَأُنْزِلَتْ {وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ} حَتَّى بَلَغَ {بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ} [لقمان: 14-15]۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میری والدہ نے مجھ سے کہا: کیا تجھے اللہ تعالیٰ نے صلہ رحمی اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم نہیں دیا، اللہ کی قسم! نہ میں کھاؤں گی اور نہ پانی کا گھونٹ پیوں گی، جب تک تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار نہیں کرے گا، پھر واقعتاً میری والدہ نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا، یہاں تک کہ لکڑی کے ذریعے اس کا منہ کھولا جاتا اورزبردستی اس کے منہ میں پانی ڈالتے، پس یہ آیت نازل ہوئی: {وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حَمَلَتْہُ اُمُّہ وَہْنًا عَلٰی وَہْنٍ وَّفِصٰلُہ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْکَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۔ وَاِنْ جَاہَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلَاتُطِعْہُمَاوَصَاحِبْہُمَافِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔} (سورۂ لقمان: ۱۴،۱۵) اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے۔ اس کی ماں نے اسے ضعف پر ضعف اٹھا کر اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اس کے دودھ چھوٹنے میں لگے۔ (اسی لیےہم نے اس کو نصیحت کی کہ) میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجا لا، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے۔لیکن وہ اگر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہرگز نہ مان۔ دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا رہ مگر پیروی اس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔ پھر تم سب کو پلٹنا میری ہی طرف ہے،اس وقت میں تمہیں بتا دوں گا کہ کیسے عمل کرتے رہے ہو۔