الفتح الربانی
تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف— تفسیر، قصص سے احقاف
بَابُ: «الم غُلِبَتِ الرُّومُ» باب: سورۂ عنکبوت {وَتَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ}کی تفسیر
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى {وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمْ الْمُنْكَرَ} [العنكبوت: 29] قَالَ كَانُوا يَخْذِفُونَ أَهْلَ الطَّرِيقِ وَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ فَذَلِكَ الْمُنْكَرُ الَّذِي كَانُوا يَأْتُونَ قَالَ رَوْحٌ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى {وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمْ الْمُنْكَرَ} [العنكبوت: 29]۔ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں پوچھا: {وَتَأْتُونَ فِی نَادِیکُمُ الْمُنْکَرَ} … (اے قوم لوط!) تم اپنی مجلسوں میں برائی کو آتے ہو۔ اس کی تفسیر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ راہ گزرنے والوں کو پتھر مارتے تھے، ان سے ٹھٹھا مذاق کرتے تھے، یہ وہ برائی ہے، جس کا وہ اپنی مجلسوں میں ارتکاب کرتے تھے۔ روح راوی نے کہا: یہ صورت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مصداق ہے: {وَتَأْتُونَ فِی نَادِیکُمُ الْمُنْکَرَ}
اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا تم تو وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا ہے۔ کیا تمہارا حال یہ ہے کہ مردوں کے پاس جاتے ہو، اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں برے کام کرتے ہو؟ پھر کوئی جواب اس کی قوم کے پاس اس کے سوا نہ تھا کہ انہوں نے کہا لے آ اللہ کا عذاب اگر تو سچا ہے۔