الفتح الربانی
تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء— تفسیر، ابراہیم سے شعراء
بَابُ: «إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ » باب: {وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8696
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: 214] قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا فَاطِمَةُ يَا بِنْتَ مُحَمَّدٍ يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنْ اللَّهِ شَيْئًا سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَأَ نْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْأَ قْرَبِیْنَ} … اور اپنے زیادہ قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے فاطمہ! اے بنت ِ محمد! اے صفیہ بنت عبد المطلب! اے بنو عبد المطلب! میں اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، ہاں میرے مال سے جو چاہتے ہو سوال کر لو۔
وضاحت:
فوائد: … تمام احادیث ِ مبارکہ کا مضمون ایک ہی ہے، مذہبی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کو خصوصی طور پر سمجھایا کریں۔