الفتح الربانی
تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء— تفسیر، ابراہیم سے شعراء
بَابُ: «إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالافْكِ عُصْبَةٌ مِنكُمْ - الا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ» باب: لعان کی آیات کی تفسیر
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَأْنِهِ مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ التَّلَاعُنِ فَقَالَ قَدْ قُضِيَ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ قَالَ فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ ثُمَّ فَارَقَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس بارے میں بتائیں کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے پاس کسی غیر آدمی کو پا لیتا ہے، کیا وہ اسے قتل کردے؟ اُدھر اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں قرآن مجید میں لعان سے متعلقہ آیات ناز ل فرما دیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اور تیری بیوی کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ پس ان دونوں میاں بیوی نے لعان کیا، جبکہ میں (سہل) وہاں موجود تھا، پھراس آدمی نے اس عورت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں جدا کر دیا۔