الفتح الربانی
تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء— تفسیر، ابراہیم سے شعراء
باب: «وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ » باب: سورۂ نور {اَلزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُہَا اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ} کی تفسیر
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ اسْتَأْذَنَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ مَهْزُولٍ كَانَتْ تُسَافِحُ وَتَشْتَرِطُ لَهُ أَنْ تُنْفِقَ عَلَيْهِ وَأَنَّهُ اسْتَأْذَنَ فِيهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ ذَكَرَ لَهُ أَمْرَهَا فَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {الزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ} [النور: 3] قَالَ أُنْزِلَتْ {الزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ} [النور: 3] قَالَ أَبِي قَالَ عَارِمٌ سَأَلْتُ مُعْتَمِرًا عَنْ الْحَضْرَمِيِّ فَقَالَ كَانَ قَاصًّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مسلمان آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ کیا وہ ام مہزول نامی ایک عورت سے نکاح کر سکتا ہے، یہ خاتون زناکار تھی اور اس نے اس سے شرط لگائی تھی کہ وہ اس پر خرچ کرے گا، جب اس آدمی نے اس عورت سے نکاح کرنے کی اجازت طلب کی یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: {الزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُہَا إِلَّا زَانٍ أَ وْ مُشْرِکٌ} … زناکار عورت سے صرف زنا کار یامشرک مرد ہی نکاح کر سکتا ہے۔ عارم کہتے ہیں: میں معتمر سے حضرمی کے بارے میں پوچھا، انھوں نے کہا: وہ ایک قصہ گو آدمی تھا اور میں نے اس کو دیکھا تھا۔