الفتح الربانی
تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء— تفسیر، ابراہیم سے شعراء
بَابُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ» باب: سورۂ المومنون {قَدْ اَفْلَحَ الْمؤْمِنُوْنَ … … }کی تفسیر
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ يُسْمَعُ عِنْدَ وَجْهِهِ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ فَمَكَثْنَا سَاعَةً فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا وَأَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا وَأَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا وَآثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا وَارْضَ عَنَّا وَأَرْضِنَا ثُمَّ قَالَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ عَشْرُ آيَاتٍ مَنْ أَقَامَهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ حَتَّى خَتَمَ الْعَشْرَ [سورة المؤمنون: ١-١٠]۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب وحی کا نزول ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب سے اس طرح بھنبھناہٹ سنی جاتی، جس طرح شہد کی مکھیوں کی آواز ہوتی ہے، پھر ہم کچھ دیر ٹھہر گئے اوردیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبلہ رخ ہوئے اور دونوں ہاتھ اٹھا لئے اور یہ دعا مانگی: اے ہمارے اللہ ! ہمیں زیادہ دینا، کم نہ کرنا، ہمیں عزت دینا، ذلیل نہ کرنا، ہمیں عطا کرنا اور ہمیں ترجیح دینا اور ہم پر غیر کو ترجیح نہ دینا اور ہم سے راضی ہونا اور ہمیں راضی کرنا۔ اورپھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے اوپر دس آیات نازل ہوئی ہیں، جوان پر قائم رہے گا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم پر {قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ} کی تلاوت کی،یہاں تک کہ دس آیات ختم کیں۔