الفتح الربانی
تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء— تفسیر، ابراہیم سے شعراء
بَابُ: «أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا » باب: {اُذِنَ لِلَّذِیْن َیُقَاتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا … } کی تفسیر
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ لَيَهْلِكُنَّ فَنَزَلَتْ أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ [سورة الحج: ٣٩] قَالَ فَعُرِفَ أَنَّهُ سَيَكُونُ قِتَالٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هِيَ أَوَّلُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ہجرت کے لیے مکہ سے نکلے تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ان لوگوں نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نکالا ہے، یہ ضرور ضرور ہلاک ہوں گے، پس یہ آیت نازل ہوئی: {أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُوْنَ بِأَ نَّہُمْ ظُلِمُوْا وَإِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} … اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جارہی ہے، کیونکہ وہ مظلوم ہیں، اور اللہ یقینا ان کی مدد پر ہر طرح قادر ہے۔ انہوں نے اس وقت جان لیا تھا کہ عنقریب لڑائی ہوگی۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ لڑائی کی اجازت کے بارے میں پہلی آیت ہے، جو نازل ہوئی۔