الفتح الربانی
تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء— تفسیر، ابراہیم سے شعراء
بَابُ: «يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدَا» باب: {یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا} کی تفسیر
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا [سورة مريم: ٨٥] قَالَ لَا وَاللَّهِ مَا عَلَى أَرْجُلِهِمْ يُحْشَرُونَ وَلَا يُحْشَرُ الْوَفْدُ عَلَى أَرْجُلِهِمْ وَلَكِنْ عَلَى نُوقٍ لَمْ تَرَ الْخَلَائِقُ مِثْلَهَا عَلَيْهَا رَحَائِلُ مِنْ ذَهَبٍ فَيَرْكَبُونَ عَلَيْهَا حَتَّى يَضْرِبُوا أَبْوَابَ الْجَنَّةِ۔ نعمان بن سعد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے یہ آیت پڑھی : {یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِینَ إِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا} … ہم پرہیز گاروں کو رحمن کی طرف جماعتوں کی صورت میں اکٹھا کریں گے۔ پھرانہوں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ لوگ اپنے پاؤں پریعنی پیدل جمع نہیں کئے جائیں گے،وہ ایسی اونٹنیوں پر سوار ہوں گے کہ لوگوں نے آج تک ان جیسی اونٹنیاں نہیں دیکھی ہوں گی، ان پر سونے کے کجاوے ہوں گے، وہ ان پر سوار ہو کر چل پڑیں گے، یہاں تک کہ جنت کے دروازوں پر دستک دیں گے۔