الفتح الربانی
تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء— تفسیر، ابراہیم سے شعراء
بَابُ: « وَانُ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا» باب: {وَاِنْ مِنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8676
عَنِ السُّدِّيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ مُرَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا [سورة مريم: ٧١] قَالَ يَدْخُلُونَهَا أَوْ يَلِجُونَهَا ثُمَّ يَصْدُرُونَ مِنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ قُلْتُ لَهُ إِسْرَائِيلُ حَدَّثَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ هُوَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ كَلَامًا هَذَا مَعْنَاهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان { وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا} کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں: تمام لوگ اس میں داخل ہوں گے، پھر اپنے اعمال کے بل بوتے پر باہر آئیں گے، عبد الرحمن بن مہدی نے امام شعبہ سے کہا: اسرائیل تو اس کو مرفوع بیان کرتے ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے، یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کے ہم معنی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جامع ترمذی میں یہ روایت مرفوعا ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں: اسرائیل سے مروی ہے کہ سدی کہتے ہیں: میں نے ہمدانی سے اللہ تعالی کے اس فرمان { وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُہَا} کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: سیدنا عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَرِدُ النَّاسُ النَّارَ ثُمَّ یَصْدُرُونَ مِنْہَا بِأَ عْمَالِہِمْ فَأَ وَّلُہُمْ کَلَمْحِ الْبَرْقِ ثُمَّ کَالرِّیحِ ثُمَّ کَحُضْرِ الْفَرَسِ ثُمَّ کَالرَّاکِبِ فِی رَحْلِہِ ثُمَّ کَشَدِّ الرَّجُلِ ثُمَّ کَمَشْیِہ۔)) … لوگ دوزخ پر وارد ہوں گے، اور پھر اپنے اپنے اعمال کے مطابق اس کو پار کریں گے، پہلا گروہ تو بجلی کی چمک کی طرح گزر جائے گا، دوسرا گروہ ہوا کی طرح، پھر گھوڑے کی رفتار کی طرح، پھر اونٹ کے سوار کی طرح، پھر انسان کی دوڑ کی مانند اور پھر انسان کے چلنے کی طرح دوزخ سے گزریں گے۔
ارشادِ باری تعالی ہیں: {وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا۔ ثُمَّ نُـنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیًّا}(سورۂ مریم: ۷۱، ۷۲)
تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پورا کرنا تیرے رب کا ذمہ ہے۔ پھر ہم ان لوگوں کو بچا لیں گے جو دنیا میںمتقی تھے اور ظالموں کو اسی میں گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔ جن لوگوں نے جہنم میں جانا ہوا، وہ پل صراط کو عبور نہ کر سکیں گے اور اس سے نیچے جہنم میں گر جائیں گے، لیکن جن لوگوں نے جنت میں جانا ہوا، وہ اس پل سے گزر کر جائیں گے، ان آیات میں اسی گزرنے کا ذکر ہے، حافظ ابن حجر نے کہا: دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے، جس نے جہنم میں داخل ہونے کی بات کی، اس کی مراد اس کے پل سے ہی گزرنا ہے، کیونکہ جو آدمی پل صراط کے اوپر سے گزرے گا، اس میں جہنم میں داخل ہونے کے معنی میں ہوگا۔
ارشادِ باری تعالی ہیں: {وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا۔ ثُمَّ نُـنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّنَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْہَا جِثِیًّا}(سورۂ مریم: ۷۱، ۷۲)
تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پورا کرنا تیرے رب کا ذمہ ہے۔ پھر ہم ان لوگوں کو بچا لیں گے جو دنیا میںمتقی تھے اور ظالموں کو اسی میں گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔ جن لوگوں نے جہنم میں جانا ہوا، وہ پل صراط کو عبور نہ کر سکیں گے اور اس سے نیچے جہنم میں گر جائیں گے، لیکن جن لوگوں نے جنت میں جانا ہوا، وہ اس پل سے گزر کر جائیں گے، ان آیات میں اسی گزرنے کا ذکر ہے، حافظ ابن حجر نے کہا: دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے، جس نے جہنم میں داخل ہونے کی بات کی، اس کی مراد اس کے پل سے ہی گزرنا ہے، کیونکہ جو آدمی پل صراط کے اوپر سے گزرے گا، اس میں جہنم میں داخل ہونے کے معنی میں ہوگا۔