الفتح الربانی
تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء— تفسیر، ابراہیم سے شعراء
بَابُ:« يَا أُخْتَ هَارُونَ» باب: سورۂ مریم {یَا اُخْتَ ھَارُوْنَ}کی تفسیر
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى نَجْرَانَ قَالَ فَقَالُوا أَرَأَيْتَ مَا تَقْرَءُونَ يَا أُخْتَ هَارُونَ وَمُوسَى قَبْلَ عِيسَى بِكَذَا وَكَذَا قَالَ فَرَجَعْتُ فَذَكَرْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا أَخْبَرْتَهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُسَمُّونَ بِالْأَنْبِيَاءِ وَالصَّالِحِينَ قَبْلَهُمْ۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نجران کی جانب بھیجا تو ان لوگوں نے مجھ سے پوچھا: تم لوگ اس طرح پڑھتے ہو: {یَا اُخْتَ ھَارُوْنَ} … اے ہارون کی بہن! جبکہ موسی علیہ السلام تو عیسیٰ علیہ السلام سے طویل عرصہ پہلے گزرے تھے، (تو عیسی علیہ السلام کی ماں سیدہ مریم علیہا السلام ان کی بہن کیسے ہو گئی) جب میں واپس لوٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے انہیں بتانا تھا کہ وہ لوگ اپنے سے پہلے نیک لوگوں اور انبیائے کرام کے ناموں پرنام رکھتے تھے۔