الفتح الربانی
تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء— تفسیر، ابراہیم سے شعراء
بَابُ: «قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبَنِي..» باب: {قَالَ اِنْ سَاَلْتُکَ عَنْ شَیْئٍ بَعْدَھَا فَلَا تُصَاحِبْنِیْ … } کی تفسیر
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا لِأَحَدٍ بَدَأَ بِنَفْسِهِ فَذَكَرَ ذَاتَ يَوْمٍ مُوسَى فَقَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى مُوسَى لَوْ كَانَ صَبَرَ لَقَصَّ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْنَا مِنْ خَبَرِهِ وَلَكِنْ قَالَ {إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا} [الكهف: 76]۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی کے لئے دعاء کرتے تو اپنی ذات سے دعا کی ابتدا کرتے، ایک دن آپ نے موسیٰ علیہ السلام کی ذات کا ذکر کیا تو فرمایا: اللہ تعالیٰ ہم پر اور موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، اگر وہ صبر کرتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں مزید معلومات عطا کرتے، لیکن انھوں نے یہ شرط باندھ لی: {إِنْ سَأَ لْتُکَ عَنْ شَیْئٍ بَعْدَہَا فَلَا تُصَاحِبْنِی، قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّی عُذْرًا} … موسیٰ( علیہ السلام ) نے کہا اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں۔ لیجیے، اب تو میری طرف سے آپ کو عذر مل گیا۔