حدیث نمبر: 8670
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا لِأَحَدٍ بَدَأَ بِنَفْسِهِ فَذَكَرَ ذَاتَ يَوْمٍ مُوسَى فَقَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى مُوسَى لَوْ كَانَ صَبَرَ لَقَصَّ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْنَا مِنْ خَبَرِهِ وَلَكِنْ قَالَ {إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا} [الكهف: 76]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی کے لئے دعاء کرتے تو اپنی ذات سے دعا کی ابتدا کرتے، ایک دن آپ نے موسیٰ علیہ السلام کی ذات کا ذکر کیا تو فرمایا: اللہ تعالیٰ ہم پر اور موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، اگر وہ صبر کرتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں مزید معلومات عطا کرتے، لیکن انھوں نے یہ شرط باندھ لی: {إِنْ سَأَ لْتُکَ عَنْ شَیْئٍ بَعْدَہَا فَلَا تُصَاحِبْنِی، قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّی عُذْرًا} … موسیٰ( علیہ السلام ) نے کہا اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں۔ لیجیے، اب تو میری طرف سے آپ کو عذر مل گیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء / حدیث: 8670
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم ۔ أخرجه ابوداود: 3984، والترمذي: 3385، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21126 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21444»