الفتح الربانی
تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء— تفسیر، ابراہیم سے شعراء
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهَا باب: سورۂ کہف سورۂ کہف کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 8663
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَرَأَ أَوَّلَ سُورَةِ الْكَهْفِ وَآخِرَهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا مِنْ قَدَمَيْهِ إِلَى رَأْسِهِ وَمَنْ قَرَأَهَا كُلَّهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورۂ کہف کی ابتدائی یا آخری آیات کی تلاوت کی تو اس کے قدم سے سر تک نور ہوگا، اور جس نے اس ساری سورت کی تلاوت کی، اس کے لیے زمین سے آسمان تک نور ہو گا۔