الفتح الربانی
تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء— تفسیر، ابراہیم سے شعراء
بَابُ: «وَلا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا» باب: {وَلَا تَجْہَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِہَا}کی تفسیر
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَوَارٍ بِمَكَّةَ {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: 110] قَالَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَسَبُّوا مَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ قَالَ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ} أَيْ بِقِرَاءَتِكَ فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ {وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا تُسْمِعُهُمْ الْقُرْآنَ حَتَّى يَأْخُذُوهُ عَنْكَ {وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا} [الإسراء: 110]۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیت اتری: {وَلَا تَجْہَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِہَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا} … اور اپنی نماز نہ بلند آواز سے پڑھ اور نہ اسے پست کر اور اس کے درمیان کوئی راستہ اختیار کر۔ تو اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں چھپ کر رہتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کو نماز پڑھاتے تو بآواز بلند قرآن مجید کی تلاوت کرتے۔ جب مشرک قرآن سنتے تو وہ قرآن مجید کو، اس کو نازل کرنے والے اور اس کو لانے والے فرشتے کو برا بھلا کہتے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا: {وَلَا تَجْہَرْ بِصَلَاتِکَ} یعنی اپنی قراء ت کو اتنا بلند نہ کرو کہ مشرک سن لیں اور پھر وہ قرآن کو گالی دیں، {وَلَا تُخَافِتْ بِہَا} اور اس کو اپنے صحابہ سے پست نہ کرو کہ وہ بھی نہ سنیں، تاکہ وہ سن کر اس کو سیکھ سکیں، {وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیلًا}اور اس کے درمیان کوئی راستہ اختیار کرو۔
اور انھیں گالی نہ دو جنھیںیہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، پس وہ زیادتی کرتے ہوئے کچھ جانے بغیر اللہ کو گالی دیں گے۔
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماننے والوں کو مشرکین کے معبودوں کو گالیاں دینے سے منع فرماتا ہے، اگرچہ اس میں مصلحت بھی ہو سکتی ہے، لیکن اس میں پائی جانے والے مفسدت بڑی ہے اور وہ یہ کہ ممکن ہے کہ ایسا مشرک اپنی نادانی کی وجہ سے اللہ کو گالیاں دینے لگ جائے۔