حدیث نمبر: 866
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ! أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنًى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت ایوب ؑ برہنہ حالت میں غسل کر رہے تھے کہ ان پر سونے کی ٹڈیاں گرنے لگیں، حضرت ایوبؑ ان کو اپنے کپڑے میں اکٹھا کرنے لگ گئے، اس کے ربّ نے اس کو یوں آواز دی: اے ایوب! کیا میں نے تجھے اس چیز سے غنی نہیں کیا، جو تجھے نظر آ رہی ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، اے میرے رب! لیکن تیری برکت سے کوئی بے پرواہی نہیں ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نہاتے وقت پردے کا اہتمام کرنا چاہیے، اگر دیکھنے والا کوئی آدمی ہو تو یہ پردہ فرض ہے اور اگر کوئی بھی نہ ہو تو مستحب ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 866
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 279، 3391، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8159 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8144»