الفتح الربانی
تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء— تفسیر، ابراہیم سے شعراء
بَابُ: «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي» باب: {وَیَسْاَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ} کی تفسیر
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَسِيبٍ قَالَ فَمَرَّ بِقَوْمٍ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ سَلُوهُ عَنْ الرُّوحِ قَالَ بَعْضُهُمْ لَا تَسْأَلُوهُ فَسَأَلُوهُ عَنْ الرُّوحِ فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ مَا الرُّوحُ فَقَامَ فَتَوَكَّأَ عَلَى الْعَسِيبِ قَالَ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ فَقَالَ {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا} [الإسراء: 85] قَالَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْ قُلْنَا لَكُمْ لَا تَسْأَلُوهُ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں چل رہا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ٹہنی پر ٹیک لگارہے تھے،اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس سے ہوا، انھوں نے ایک دوسرے سے کہا: اس سے روح کے بارے میں سوال کرو، بعض نے کہا کہ اس سے کوئی بات مت پوچھو، لیکن پھر انہوں نے پوچھ لیا اورکہا: اے محمد! روح کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹہنی پر ٹیک لگا کرکھڑے ہو گئے، میں نے خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: {وَیَسْأَ لُونَکَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَ مْرِ رَبِّی وَمَا أُوتِیتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِیلًا} … یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، کہہ دو کہ روح میرے رب کا حکم ہے، تمہیں صرف تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔ پھر ان میں سے بعض افراد دوسروں سے کہنے لگے: ہم نے تم کو کہا تو تھا کہ ان سے سوال نہ کرو۔